حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، شیخ ابراہیم زکزاکی نے ہفتہ 16 ربیع الاول 1448ھ کو ابوجا میں اپنے گھر پر مسلم علماء اور ہفتۂ وحدتِ مسلمین کانفرنس کے شرکاء سے ملاقات کی۔
انہوں نے کہا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کی خوشی صرف جشن منانے اور آپؐ کی ولادت کو یاد کرنے تک محدود نہیں ہونی چاہیے، بلکہ یہ موقع امتِ مسلمہ کو اپنے حالات کا جائزہ لینے، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیغام و رسالت سے اپنی وابستگی پر غور کرنے اور اس معاشرے کو یاد کرنے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے جو آپؐ نے قائم کرکے امت کے لیے چھوڑا۔
شیخ زکزاکی نے مسلمانوں کے درمیان اتحاد کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وحدت کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اپنے دینی عقائد اور نظریات سے دست بردار ہو کر دوسرے نقطۂ نظر کو اختیار کرلے۔
انہوں نے کہا کہ وحدت کا اصل مفہوم ایک دوسرے کے نظریات کا احترام، ایک دوسرے کے لیے عذر قبول کرنا اور اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کے قریب آنا ہے۔ ایسی وحدت دشمنی، کینہ اور غلط فہمیوں کی ان رکاوٹوں کو دور کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے جو دشمنوں نے مسلمانوں کے درمیان پیدا کی ہیں۔
ابوجا میں منعقد ہونے والی ہفتۂ وحدتِ مسلمین کانفرنس اپنے چوتھے روز میں داخل ہوگئی ہے، جس میں اسلامی معاشرے کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے علماء اور شخصیات نے شرکت کی اور اتحادِ مسلمین و اسلامی تعلیمات سے متعلق مختلف موضوعات پر خطاب کیا۔
منتظمین کے مطابق کانفرنس کی اختتامی تقریب اتوار کو ابوجا میں منعقد ہوگی، جس کے ساتھ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادتِ باسعادت کی ایک عظیم الشان تقریب بھی منعقد کی جائے گی۔









آپ کا تبصرہ